Subscribe to South Asia Citizens Wire | feeds from sacw.net | @sacw
Home > South Asia Labour Activists Library > Pakistan: Labour leaders demand withdrawal of privatization policy, (...)

Pakistan: Labour leaders demand withdrawal of privatization policy, condemn workers killings in Balochistan

26 October 2014

print version of this article print version

PRESS RELEASE

Labour leaders demand withdrawal of privatization policy, condemn workers killings in Balochistan

KARACHI, Oct. 25: Sindh Labour Solidarity Committee has expressed serious concern over the new privatization policy of the present government and demanded the government to withdraw this policy to sell the valuable state-owned corporations, because this policy would ultimately be harmful to the workers livelihood rights. At its first formal meeting at PILER Centre Saturday, the Sindh Labour Solidarity Committee, which was formed after the 3-day Sindh Labour Conference on [September] 26-28, 2014, appealed to the workers of those government organizations, which are put for privatization, to raise their voice against privatization policy.“We would fully support and take part in any movement by the workers of the state-owned organizations to end the privatization process," a resolution of the Committee stated. The Committee reviewed the situation of labour laws and expressed concern over delay in the legislation by the provincial governments and demanded that all the provinces should make new labour laws after 18Constitutional Amendment. The meeting condemned the killings of eight workers hailing from Punjab in Lasbela, Balochistan and demanded the provincial government to bring the culprits to books. They regretted that the innocent workers of the poultry farms were first kidnapped by the outlaws and later killed and their bodies were thrown in Sakran area in Balochistan. The reports also indicated that the killers first identified them and then shot at them." It is unfortunate that such incidents are happening in Balochistan to sabotage the peace efforts of the provincial government and initiation of development activities in the province.” The province is already lagging behind in development due to worsening law and order situation and such incidents would further aggravate the situation, the statement stated.The meeting offered condolences with the families of the deceased workers and demanded the government to arrest the culprits without wasting any time and provide appropriate compensation to the victims’ families. The Committee formed three sub-committees. The first committee would review the existing labour laws and the legislation process in each province, the second committee would review the situation of health and safety at work places and third committee would review the performance of labour welfare organizations like Employees Old age Benefit Institution (EOBI), Sindh Employees Social Security Institution (SESSI) and Workers Welfare Board (WWF). The Committee was informed that after the Sindh Labour Conference, the Chief Minister of Balochistan had agreed to hold a tripartite Labour Conference and it is hoped that the conference would be held in Quetta by next month. Similar tripartite labour conferences should be held in each province before legislation of labour laws. The participants felt the need for holding such labour conferences in other three provinces and also at the federal level.The meeting was chaired by senior trade union leader Habibuddin Junaidi and conducted by Karamat Ali of PILER. Prominent among those who also attended the meeting included Shafeeq Ghauri, Rehana Yasmeen, Zafar Abbas, Shaukat Ali, Jannat Hussain Rehan Shah, Mirza Maqsood Hussain, Shakeela Asghar.

Ends

مورخہ: ہفتہ، 25اکتوبر، 2014؁ء
پریس ریلیز
سندھ مزدور یکجہتی کمیٹی کا اجلاس، سندھ لیبر کانفرنس کی تجاویزات کی روشنی میں آئیندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ اور ضروری اقدامات

(کراچی، پ۔ر) سندھ میں سہ فریقی کانفرنس کا انعقاد او کانفرنس کی تجاویزات کی روشنی میں مزدور قوانین کا جائزہ لینے کے لئے سندھ مزدور یکجہتی کمیٹی کا اجلاس پائلر سنٹر گلشن معمار میں بروز ہفتہ منعقد کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت سینئر مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی نے کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے کرامت علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ابتر سیاسی صورتحال میں یہ ایک خوش آئیند بات ہے کہ سندھ لیبر کانفرنس کا انعقاد کامیابی سے طے پایا گیا تاہم اب ایسی کانفرنسوں کو مزید صوبوں اور پھر وفاقی سطح پر پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد حکومتی اداروں کے ساتھ تصادم کے بجائے ان کے ساتھ مشاورت سے مزدوروں کے لئے صورتحال بہتر بنانا ہے اور اٹھارویں ترمیم کے بعد اس قسم کی کانفرنسوں کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ قوانین ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مزدور تنظیموں نے وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹرعبد المالک بلوچ سے بھی رابطہ کیا ہے اور امکان ہے کہ اگلے مہینہ تک بلوچستان میں حکومتی سطح پر سہ فریقی کانفرنس کا انعقاد ممکن ہو سکے گا جس میں آجر، اجیر اور حکومتی نمائندے شرکت کریں گے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مجلس اور سینئر مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی صاحب کا کہنا تھا کہ موجودہ دور آزاد معیشت کا ہے اور دنیا بھر میں ہر جگہ ٹریڈ یونین تنزلی کا شکار ہیں اور ان حالات کی روشنی میں ہم مزدوروں کو سول سوسائٹی اور دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ نجکاری کے عمل کو روکنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ان اداروں کے اندر سے آواز اٹھنے کی ضرورت ہے جن کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں میں بھی اب مزدوروں اور درمیانی طبقہ کے بجائے کے بجائے سرمایہ داروں کا قبضہ ہے اور وہی فیصلہ سازی کے عمل پر قابض ہیں۔
اجلاس میں حکومت کی جانب سے اداروں کی بے دریغ نجکاری کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے اس کا جائزہ لینے اور حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے ایک کمیٹی کی بھی تشکیل دی۔ علاوہ ازیں اجلاس میں تین مزید کمیٹیوں کی تشکیل دی گئی جن کام قوانین کا جائزہ لینا، کام کرنے والی جگہوں پر حفاظتی انتظامات کی یقین دہانی اور سماجی تحفظ کے اداروں جیسا کہ
Employees Old Age Benefit Institution (EOBI)ِ ،
Sindh Employees Social Security Institution(SESSI) اور
Workers Welfare Board (WWF)
اور دیگر اداروں میں بد عنوانیوں اور دیگر عوامی فلاح کے منصوبوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ ان کمیٹیوں کے اجلاس اگلے ہفتہ تک منعقد ہونگے۔ قوانین کا جائزہ لینے والی کمیٹی اگلے کچھ دنوں میں ملک کے معروف وکلاء اور بار ایسوسی ایشن سے رابطہ کرے گی تاکہ ان سے تجاویزات کی روشنی میں قوانین کا ڈرافٹ حکومت سندھ کو پیش کیا جا سکے۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا گیا کہ اس سارے عمل کو عوامی سطح پر پہنچانے کے لئے سیمینار اور صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس موقع پر مزدور تنظیموں کی جدوجہد کوآ گے بڑھانے کے لئے ایک مشترکہ فنڈ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔
میٹنگ کے آخر میں تمام شرکاء نے گذشتہ دنوں بلوچستان میں ہونے والے مزدوروں کے قتل عام پر اظہار مذمت کرتے ہوئے قرارداد منظور کی کہ مزدوروں کا یہ قتل عام کسی بھی صورت جائز نہیں اور بلوچستان حکومت کو اس واقعہ کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹھڑے میں لا کر قرار واقعی سزادینی چاہئے۔ اجلاس میں مختلف ٹریڈ یونین تنظیموں، سول سوسائٹی اور غیر سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی جس میں شفیق غوری، ریحانہ یاسمین، مرزا مقصود احمد، ظفر عباس، ریحان شاہ، شکیلہ اصغر، جنت حسین اور دیگر نمائندے شامل تھے۔

Released by:
Pakistan Institute of Labour Education and Research (PILER)
Gulshan-e-Maymar, Karachi-75340